17 مئی 2010 - 19:30

عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ المالکی پر قاتلانہ حملہ ہوا تا ہم وہ محفوظ رہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ عراقی اہلکار نے کہا: اسپتال میں وزیراعظم المالکی کے آپریشن کے بارے میں ایک بیان شائع کیا گیا لیکن معلوم نہ تھا کہ اس آپریشن کی وجہ کیا ہے چنانچہ اس بیان کے بارے میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔
انھوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعظم المالکی جمعرات کے روز ایک قاتلانہ حملے کا نشانہ بنے اور گولی ان کی ٹانگ میں لگی اور اسپتال میں ان کی ٹانگ کا کامیاب آپریشن ہوا اور اس وقت وزیراعظم مکمل طور پر تندرست ہیں۔
انھوں نے البتہ قاتلانہ حملے کی تفصیلات نہیں بتائیں اور یہ بھی نہیں بتایا کہ اس حملے کی پشت پر کونسی طاقتیں ہوسکتی ہیں۔
....
اس حملے کے اسباب و عوامل کیا ہوسکتے ہیں؟
اس سوال کا جواب بہت سے پیچیدہ سوالات کے برعکس بہت آسان ہے۔ آپ بھی اگر جواب ڈھونڈنا چاہتے ہیں تو انتخابات کے نتائج پر ایک نظر ڈالیں اور دیکھ لیں کہ آس پاس کے عرب ممالک سمیت امریکہ اور یورپ کو یہ نتائج مطلوب نہ تھے چنانچہ منطق کی انتہا پر  انھوں نے "اپنی خاص منطق" کا سہارا لیا جو دہشت گردی سے عبارت ہے اور ہم جانتے ہیں کہ قاتلانہ حملہ اسی منطق کا حصہ ہے؛ نتائج پر ایک نظر:

ـ المالکی کا سیاسی اتحاد پیش پیش
ـ سعودی ذرائع کا انکشاف:
ایاد علاوی کے ساتھ سعودی بادشاہ کے مذاکرات کی ان کہی باتیں/ سعودی عرب عراق پر اہل تشیع کی حکمرانی نہیں چاہتا۔